جو مزاکرات گزشتہ روز کیئے گئے تین ماہ پہلے کرلیئے جاتے تو کراچی والوں کو اذیت نہیں اٹھانی پڑتی اور پارا چنار میں بھی امن قائم ہو جاتا۔علی خورشیدی
امن قائم کرنے میں ہمیشہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔ علی خورشیدی
پارا چنار میں امن قائم کرنا کے پی کے حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے تھی لیکن وہ اسلام آباد پر چڑھائی میں مصروف تھے
کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کراچی کے امن سے وابستہ ہے، کے پی کے کی صوبائی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریوں میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ نتیجتاً کراچی کی افادیت کے پیشِ نظر کراچی میں دھرنے دیئے گئے جس کے باعث 10 روز تک شہری شدید مشکلات کا شکار رہے، سندھ حکومت کو بھی جو کردار ادا کرنا تھا وہ نہیں کیا۔ جو بات چیت گزشتہ روز کی گئی تین ماہ پہلے کر لی جاتی تو کراچی والوں کو تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی اور پارا چنار میں بھی امن قائم ہو جاتا۔ تمام مسائل کا حل بات چیت سے ہی نکلتا ہے جو کے پی کے حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے تھی لیکن وہ اسلام آباد پر چڑھائی میں مصروف تھے، احتجاج سب کا بنیادی حق ہے لیکن کراچی میں احتجاج کی آڑ میں بد امنی پھیلا کر تیسری قوت فائدہ اٹھانا چاہتی تھی، کراچی کے امن پر ایم کیو ایم پاکستان بالکل سمجھوتہ نہیں کرے گی، احتجاج کی آڑ میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا کسی طور قابل قبول نہیں ہوگا۔ امن قائم کرنے میں افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔ کراچی کے امن کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں سمیت ہزاروں کارکنان کی شہادتیں ہوئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر دیگر اراکین سندھ اسمبلی بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ علی خورشیدی نے مزید کہا کہ سندھ پولیس ہماری بھی پولیس ہے، کسی طور ہمارے جوانوں پر حملہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے ایم کیو ایم نے بہت جہدوجہد کی ہے، اسے رائیگاں جانے نہیں دیں گے۔ کراچی میں تمام مسالک بھائی چارے اور باہمی عزت و احترام کے ساتھ رہتے ہیں جسے خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے، ہم سب اِس شہر کے باسی ہیں پُورے پاکستان پر اِس شہر کے کئی احسانات ہیں، کراچی کی معاشی سیاسی اقتصادی افادیت سے انکار کرنے والا محب وطن نہیں ہے، اِس شہر میں امن کا ہونا مُلک کی معیشت کو استحکام دینا ہے۔ ایم کیو ایم گذشتہ چالیس سالوں سے اِس شہر کا مینڈیٹ رکھتی ہے، شہر کا امن بھی سب سے زیادہ ایم کیو ایم کو پیارا ہے۔ آئندہ اس قسم کے احتجاج کی نوبت نہ آئے سندھ حکومت پیشگی انتظامات کرے۔