میڈیکل مصنوعات کی رجسٹریشن اب 20 دن میں ممکن، 1300 سے زائد پروڈکٹس رجسٹر ہو چکی ہیں۔ مصطفیٰ کمال
مصطفیٰ کمال کی کراچی ایکسپو سینٹر میں تین روزہ ہیلتھ ایشیاء نمائش کے آخری روز بوسٹنگ میڈیکل ڈوائس ڈیویلپمنٹ ان پاکستان کانفرنس میں شرکت
آئندہ سالوں میں پاکستان بین الاقوامی معیار کی ویکسین خود تیار کرے گا۔ مصطفیٰ کمال
کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی کراچی ایکسپو سینٹر میں تین روزہ ہیلتھ ایشیاء نمائش کے آخری روز بوسٹنگ میڈیکل ڈوائس ڈیویلپمنٹ ان پاکستان کانفرنس میں شرکت، شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قوم کو مبارکباد دی اور بتایا کہ نمائش میں 50 سے زائد ملکی و غیر ملکی کمپنیوں نے شرکت کی جبکہ متعدد مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی سائن کی گئیں۔ جبکہ وفاقی نمائندگان تینوں دن نمائش میں شریک رہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اس وقت 500 ملین ڈالر سے زائد کی ویکسین امپورٹ کرتا ہے، تاہم آئندہ آنے والے برسوں میں ہم عالمی معیار کی ویکسین خود تیار کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیکل مصنوعات کی رجسٹریشن کے لیے پہلے ڈھائی سے تین سال لگتے تھے، اب ہم نے ایک آن لائن پورٹل تیار کیا ہے جس کے ذریعے بیس دنوں میں رجسٹریشن ممکن ہوگئی ہے۔ اب تک 1300 سے زائد میڈیکل مصنوعات کو رجسٹر کیا جا چکا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ہسپتال کے باہر ہے، ہسپتال میں تو صرف بیماری کا علاج ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی کمی 70 فیصد بیماریوں کی بڑی وجہ ہے۔ کراچی میں وفاق کے پاس کوئی اسپتال موجود نہیں، تاہم جناح سیٹلائیٹ کمپلیکس اسپتال کراچی میں قائم کیا جا رہا ہے جس کے لیے سندھ حکومت سے سو ایکڑ زمین کی درخواست کی گئی ہے۔
انہوں نے ڈینگی کی وبا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارتِ صحت محکمہ صحت سندھ سے مسلسل رابطے میں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو وفاق کر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔