Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

ایم کیو ایم اگلے بلدیاتی انتخابات کیلئے اپنے نمائندوں کو چُننے کا آغاز کردیا ہے۔ سید مصطفیٰ کمال

ہم 8 فروری کو جیت چکے ہیں لیکن اب ہمیں عوام کی خدمت کرکے کامیاب ہونا ہے۔سید مصطفیٰ کمال

0

ایم کیو ایم اگلے بلدیاتی انتخابات کیلئے اپنے نمائندوں کو چُننے کا آغاز کردیا ہے۔ سید مصطفیٰ کمال

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی انتخابی دفتر پاکستان ہاؤس سے متصل روڈ پر جنرل ورکرز اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔جنرل ورکرز اجلاس میں چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، مرکزی کمیٹی کے اراکین سید مصطفی کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، نسرین جلیل، انیس قائمخانی و دیگر اراکین، سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے انچارج فرقان اطیب و اراکین کمیٹی، شعبہ جات کے انچارجز و اراکین، ٹاؤن و یوسیز کے انچارجز و اراکین کمیٹی سمیت کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جنرل ورکرز اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول سے کیا گیا۔

جنرل ورکرز اجلاس سے رکن مرکزی کمیٹی سید مصطفی کمال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کے بعد یہ پہلا اجتماع ہے 8 فروری سے پہلے قبضہ مافیاں یہ سوچ کر یہ جشن منارہی تھی کہ ہم اس شہر پر شب خون مار کر اس شہر پر قبضہ کرلینگے آج انکی نیندیں حرام ہیں الیکشن میں جس طرح ہمارے کارکنان و ذمہ داران نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ظالموں کے آگے جھکے نہیں بلکہ شہید ہوگئے میں الیکشن کے دوران شہید ہونے والے تمام کارکنان کو سلام پیش کرتا ہوں،الیکشن کے دوران پولیس ہم پر ہی ظلم کر کہ ہماری ہی جھوٹی ایف آئی آر کاٹ رہی تھی، کارکنان نے نہتے ہاتھوں بڑے بڑے جاگیرداروں کا مقابلہ کیا آپ کو سلام ہے۔ الیکشن جیتنا آسان ہے لیکن جیت کو برقرار رکھنا بہت مشکل ہے ہم الیکشن جیت کر کامیاب اس وقت ہونگے جب عوام کہہ کہ ایم کیو ایم نے الیکشن جیتنے کے بعد کام کیا،ہماری جیت اس وقت یے کہ جب ہمارے مخالف بھی ہمارے عوام کیلئے کئے جانے والے کاموں پر ہماری تعریف کریں۔

انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات نے یہ ثابت کردیا کہ شہری علاقوں کے پاس ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے میں یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ پچھلے 15 سالوں سے حکمرانی کے بعد پورا سندھ نہیں بلکہ پورا پاکستان پیپلز پارٹی کا ہو جاتا لوگ انکی تعریفیں کرتے اور ہمیں یہ کہہ دیتے کہ ہمارے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں لیکن آج کے حالات یہ ہیں کہ 15 سالوں سے ایک قطرہ پانی نہیں آیا پانی ہمارے دور میں آیا تھا آج ہاں کے بچے گٹر میں گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں یہ ہے 15 سالوں کی بدترین کرپشن شدہ حکمرانی میں نے الیکشن کے دوران یہ بات بولی تھی کہ صرف 5 سال کیلئے سندھ کو ایم کیو ایم کے حوالے کرو ہم اتنا کام کرینگے کہ پیپلزپارٹی کی لاڑکانہ سے بھی ضمانت ضبط ہوجائیگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج پی ٹی آئی کی باتیں سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہے 2018 میں مینڈیٹ چوری کر کے حکومت بنائی اور جب حکومت گری تو عمران نیازی فرح گوگل کے حق میں باتیں کر رہا ہے اپنی کارکردگی کی بات نہیں کی، عمران خان کے دور میں ضمنی الیکشن ہوئے جس میں 21 میں سے 19 سیٹیں پی ٹی آئی ہار جاتی ہے ہار نے کی وجہ یہ تھی کے انکی کارکردگی صفر تھی اگر انکی کارکردگی ٹھیک ہوتی تو وہ یہ سیٹیں نہیں ہارتے، عمران نیازی کا جھوٹا بیانیہ اداروں کو جانور کہنا اور غلط باتیں کرنا ہے اور عوام کے ذہنوں میں خناس بھر کر عوام کو گمراہ کرنا ہے عمران خان نے مظلوم بم کر عوام کو بے و قوف بنایا انکے پاس اپنے کام گنوانے کیلئے کوئی کام نہیں ہے، یہ شہر ہمارے دور میں ترقی کرتا تھا ہمارے زمانے میں کوئی بچہ گٹر میں گر کر نہیں مرتا تھا ہمیں بس ایک بار وزیر اعلٰی کی سیٹ دے دی جائے ہم سب کو بتا دینگے کہ خدمت کسے کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے حکمران کہتے ہیں کہ چوری اس نے نہیں کی کہ جس کو موقع نہیں ملا ارے ہمیں تو ڈکیتی کرنے کا موقع ملا لیکن ہم پر کوئی چوری کرنے کا الزام نہیں لگا سکتا، آج ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہتے ہیں، ہم نے غلطیاں کی ہیں لیکن جان بوجھ کر کوئی غلطی نہیں کی اور ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو ہم قوم سے معافی مانگتے ہیں ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہم سب سے اچھے ہیں ہم بروں میں سب سے اچھے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ جو قوم وقت اور حالات کے ساتھ اپنے آپکو نہیں بدلتی تو وہ تباہ ہوجاتی ہے ہمیں اس دور کے مطابق چلنا ہوگا کوئی اور پارٹی اس شہر کیلئے کام اور بات نہیں کریگی ہم نے اپنے ہزاروں کارکنان کو بازیاب کروایا ہے ہم نے ان لوگوں کا خواب چکنا چور کردیا جو اس شہر پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتے تھے ہمیں اس شہر اور ملک کو آگے لے جانا ہے، ہم نے ایڈہاک کمیٹی کو مرکزی کمیٹی میں تبدیل کیا اور ہم نے خالد مقبول صدیقی کو اپنا چیئرمین منتخب کیا اور آج کے اس اجلاس میں آپ کارکنان کے سامنے یہ قرار داد پیش کرتا ہوں آپ کارکنان اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ پارٹی اپنے لئے نہیں بنائی تھی بلکہ اس قوم کی آنے والی نسلوں کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ہم نے اس تحریک کو نوجوانوں کے حوالے کرنا ہے فاروق ستار جب میئر بنے تھے تو وہ صرف 28 سال کے تھے اور اس وقت سوشل میڈیا نہیں مصطفٰی کمال جب میئر بنے تو وہ 32 سال کے تھے ہمارے دور میں ٹیکنالوجی کا دور نہیں تھا لیکن آج دنیا کے کسی کونے پر کسی سے رابطہ کرنا ہو تو ایک بٹن دبا کر رابطہ کیا جا سکتا ہے اب جب دنیا بدل گئی اگر آپ اپنی نسلوں کی فلح چاہتے ہو تو ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔

سید مصطفی کمال نے جنرل ورکرز اجلاس سے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ایم کیو ایم پاکستان بلدیاتی انتخابات کیلئے اپنے امیدواروں کے انٹرویو کا آغاز کر رہی ہے اور ہم نے اس سلسلے میں ایک فارم بنادیا ہے ہم نے کونسلرز اور چیئرمین کیلئے پہلے مرحلے میں انٹرویوز جو ہونگے وہ 19 سال سے لیکر 28 سال کی عمر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے ہونگے جبکہ 28 سال سے زیادہ کے انٹرویوز کا آغاز دوسرے فیز میں کیا جائیگا،انتخابات کے حوالے متعارف کروائے جانے والے فارم کے مطابق کوئی ایک چیز بھی کم ہوگی تو وہ انتخابات لڑنے کا اہل نہیں ہوگا۔

اس فارم کو عام عوام بھی پر کر سکتے ہیں اس فارم کو بھرنے کی کوئی قید نہیں ہے،ہم ابھی سے اس حلقے کے نمائندے کو کہہ دینگے کہ ابھی سے جاو اپنے حلقوں میں کام کرو اگر تم اچھے کروگے تو تم جیتو گے اور نہیں کروگے تو تم ہاروگے ہم ابھی سے پورا نظام قائم کرنے جا رہے ہیں جو ابھی سے عوام کی خدمت کرنا شروع کرینگے۔انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کی تعداد 70 فیصد ہے اور وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت آگے نکل گیا ہے اگر آپ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوئے تو ہار جاو گے۔

Comments
Loading...