یہ آگ گل پلازہ میں نہیں، پورے پاکستان میں لگی ہے، ہر قومیت کا شخص اس میں تھا۔ کامران ٹیسوری
گل پلازہ کے حوالے سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی پریس کانفرنس
میں صبح اٹھ کر سب سے پہلا کام کروں گا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھوں گا۔ کامران ٹیسوری
کراچی : گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ پیدل چل کر جب وہاں پہنچا تو کوئی ٹریفک کو ہٹانے والا موجود نہیں تھا۔ میں نے خود ڈی آئی جی ٹریفک کو فون کیا اور ٹریفک کو کلئیر کرانے کو کہا۔ میں پاکستان آرمی، نیوی اور رینجرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج میڈیا سے بات کرنا اس لئے ضروری ہے کہ آج بھی بلیم گیم ہورہا ہے۔ سازشیں ہو رہی ہیں۔ جو ذمہ دار ہیں وہ ذمہ داری لینے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ ابھی مجھے ظفر عباس نے بتایا کہ لواہکین خود جا جا کر اپنے پیاروں کی ہڈیاں اٹھا رہے ہیں۔ جن کا کام ہے وہ غائیب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیاست کرنی ہوتی تو اس وقت سب سے اچھا موقع تھا، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔ اس وقت جو وقت تھا وہ لوگوں کی مدد کرنے کا تھا، سیاست کرنے کا نہیں۔ ہم بولیں گے تو ٹگر چلے گا۔ ہم بولیں گے تو میسج آئے گا کہ آپ نہیں بولئے گا۔ آپ کا آئنی اختیار نہیں ہے اور پھر سازشیں ہونگی۔ تو بھائی مجھے اللہ کی ذات نے بیٹھایا ہے سازشیں کرنے والوں نے نہیں بیٹھایا ہے۔ میں اتنا کمزور آدمی نہیں ہو کہ تمہارے ڈرانے سے اور میسیج کرانے سچ نہیں بولوں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں صبح اٹھ کر سب سے پہلا کام کروں گا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھوں گا۔ کہ اس معملے کی جوڈیشنل انکوارئی کرائی جائے۔ کیونکہ یہ معملہ ایسا نہیں ہے جس پر خاموشی اختیار کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ آگ گل پلازہ میں نہیں، پورے پاکستان میں لگی ہے، ہر قومیت کا شخص اس میں تھا۔ کیا سندھی، کیا پنجابی، کیا بلوچی، کیا مہاجر، کیا سرائکی۔ کیا بات کررہے ہیں۔ سیاسی رنگ نا دیں اور نا ہی ڈرانے کی ضرورت ہے۔ اب نہیں چلے گا۔ میں نے پرسوں بھی کہا تھا کہ یہ کیس بند نہیں ہوگا۔ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ اس گورنر ہاوس میں بیٹھے ہوئے گورنر نے پہلا قدم اٹھایا، خوف سے بلا تر ہوکر۔
انہوں نے کہا کہ میں چیف منسٹر سندھ سے کہوں گا کہ وہ اس مسلہ کو دیکھیں۔ کیا ان کے آس پاس موجود لوگ ان کو مس گائیڈ تو نہیں کررہے ہیں۔ کیوں 2 گھنٹے تک آگ نہیں بجھ سکی ؟ صرف ایک شخص یا دو شخص کو ہٹا کر لوگوں کے جزبات ٹھنڈے نہیں ہوں گے۔ ذمہ داروں کو کٹھیرے میں لائیں۔ میں چشم دید گواہ ہوں وہاں جاکر کہ کیسے کام ہورہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی جل کر مرجائے ہم سیاست کررہے ہیں۔ لوگ گٹر میں گر کر مرجائیں ہم سیاست کررہے ہیں۔ لوگ ٹرالے کے نیچے کچلے جائیں ہم سیاست کررہے ہیں۔ سیاست کے بعد بھی اندر سے احساس نہیں جاگ رہا ہے۔ ضمیر نہیں جاگ رہا ہے۔ شرم نہیں آرہی ہے۔ میرے پاس تو الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس بیٹے کو باپ کہاں سے لاکر دوں۔
انہوں نے کہا کہ میں وہ چیخیں اور آواز سن رہا ہوں جو وہاں موجود لوگ فون لاکر میرے کان سے لگا رہے تھے۔ اللہ کے واسطے باہر نکال لو، دھواں بھر رہا ہے۔ اللہ کے واسطے، خدا کے واسطے۔ یہ کانوں سے سننے ہیں، لوگوں نے فون لگائے تھے کان سے۔ لیکن میں نے یہ سوچ لیا تھا کہ اللہ جانتا ہے کہ سیاست نہیں کرنی ہے۔ بلیم نہیں کرنا ہے۔ جنہوں نے اچھا کام کیا ہے ان کو اپریشیٹ کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جو 4 دن میں ہورہا ہے، یہ جو لواہکین آکر میرے پاس بیٹھ گئے ہیں۔ وہ مجھ سے بھی سوال کررہے ہیں کہ آپ گورنر ہیں صوبے کہ آپ نے کیا کیا ؟ آپ وہاں پہنچ تو گئے لیکن یہ بھی کسی سے ہضم نہیں ہورہا ہے کہ میں پہلے کیوں پہنچ گیا۔ میں نے اگر وہاں سے ریسکیو اداروں کو فون کیا تو کیوں کرلیا۔ کہاں پہنچا، کہاں کھڑا ہوا، اب کچھ ایسا کریں کہ یہ ملبہ اب ہم سے ہٹے۔ ارے اگر تم اپنے پر سے ہٹا بھی لو گے تو کیا قدرت تم کو چھوڑ دے گی۔ خدا کی ذات تم کو چھوڑ دے گی۔ انتظامیہ بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ جن اداروں کا یہ کام تھا وہی ادارے اس کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کس بات کی تحقیقات؟ تحقیقات تو وہاں ہوتی ہے جب آپ کو پتہ ہی ناہو کہ ذمہ دار کون ہے۔ جن کی ذمہ داری تھی وہ تو تھے ہی نہیں وہاں پر۔ ظفر عباس بھائی نے جو باتیں مجھے بتائی ہیں۔ جے ڈی سی کے روح رواں نے۔ ابھی خود بھی بتائیں گے کہ لوگوں کی لاشیں پھگل گئی ہیں۔ لوگ گرل سے چپک گئے ہیں اور اس کے بعد ان کے لواہکین کو صبر دینے کے بجائے، آئیندہ کسی اور کے ساتھ یہ سب ناہو۔ وہ پلان دینے کے بجائے۔ یا ہم ان سے پوچھیں کہ تمہارا ایمرجنسی پلان کہاں تھا ؟ کیوں بروقت اس پر عمل نا ہوسکا ؟ ریسکیو ٹیمیں اندر کیوں داخل نہیں ہوسکیں ؟ 2 گھنٹے کے بعد تھوڑی آگ بجھائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کی فوری طور پر جوڈیشل انکواری ہونی چاہیئے۔ جو لواہکین میرے پاس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بغیر جوڈیشل انکوائری کے ہم نہیں مانیں گے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ٹیکس بھی دیں اور جان بھی دیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ناانصاف دیں گے اور نا لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھے گے۔