Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

بدقسمتی سے تنقید کی دوڑ میں کچھ لوگ حقائق کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب

حقیقت کو سمجھے بغیر الزام تراشی درست نہیں۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب

0

اگر وہاں فائر بریگیڈ اور فائر فائٹرز نہ پہنچے ہوتے تو کیا کوئی فائر فائٹر شہید ہوتا؟ میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب

کراچی : مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب صاحب نے سید عمران شفقت صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا مسلہ یہی ہے کہ ہم مفروزوں پر چلے جاتے ہیں، سوال کا جواب دینے سے پہلے بتانا چاہوں گا کہ وہاں ایک فائر فائٹر کی شہادت ہوئی ہے۔ اگر وہ کام نہیں کررہے ہوتے تو کیا شہادت ہوتی ؟ مجھے دکھ یہ ہوتا اور تکلیف یہ ہوتی ہے کہ جب مشکل وقت آتا ہے۔ بہت زیادہ مشکل کام ہوتا ہے آگ کے سامنے کودنا۔ اس وقت جو آپ کے فرنٹ لائین ورکرز ہیں، جو فائر فائٹر ہیں، جو کام کررہے ہیں، ریسکیو کا کام کررہے ہیں۔ اگر آپ ان کے بارے میں ہی کہنا شروع کردیں کہ پانی نہیں تھا، وہ پہنچے نہیں، وہ تو ڈھیڑ گھنٹے بعد پہنچے، تو ہم کیا میسج دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں ذاتی طور پر آگ بجھانے نہیں جاوں گا، آپ نہیں جائیں گے۔ تو جن کا کام ہے ہمیں ان کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ خطرہ جانتے ہوئے اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں وہ اصل ہیروز ہوتے ہیں۔ اس پورے معلمے میں پیپلز پارٹی کو نیچہ دیکھانے کے لئے، مرتضیٰ وہاب کو نیچہ دیکھانے کے لئے ان تمام لوگوں کو نیچہ دیکھا رہے تھے۔ جو کہ میں غیر مناسب سمجھتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ اس بات سے شروعات کرتے ہیں کہ گاڑیاں نہیں پہنچیں تو دوسرا سوال ہی غیر ضروری ہے کہ پانی تو بے مقصد ہے جب گاڑیاں ہی نہیں پہنچیں۔ تو انہوں نے جان بوچھ کر یہ پروپیگینڈا پھلانے کی کوشش کی۔ اب میں آپ کو پانی کا بھی جواب دیتا ہوں۔ جب وہاں فائر ٹینڈرز پہنچے اور انہوں نے آگ بجھانا شروع کی۔ ہر فائر ٹینڈر کے ساتھ اپنا باوزر ہوتا ہے۔ اس کی ایک کپیسٹی ہے جب اس کا پانی ختم ہونے کی طرف جاتا ہے تو ٹینکرز منگوائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک فائر برگریڈ کا اور واٹر بورڈ کا واٹس ایپ گروپ ہے۔ 10 بج کر 56 منٹ پر پہلے بار یہ ریکوسٹ کی گئی کہ ہمیں پانی کا بیک اپ چاہیئے۔ یعنی کہ فائر برگریڈ کام کررہی تھی، پانی کو استعمال کررہی تھی۔ تب ہی انہوں نے اضافی پانی کی درخواست کی۔ اس کے بعد 11 بج کر 13 منٹ پر ٹینکرز کو بھیجا گیا۔ مختلف ہائیڈرنٹ سے اور وہ پہنچے ہیں 11 بج کر 37 منٹ پر گل پلازہ پر۔

انہوں نے کہا کہ اس میں دشواری اور دقت کیا ہوئی۔ تو ان میں دشواری یہ پیش آئی کہ بجائے اس کے کہ وہاں موجود لوگوں کو کنٹرول کیا جائے اور وسکیو کی ٹیم باآسانی وہاں پہنچ سکے۔ وہاں پر فلاحی اداروں کی ایمبولینس پہنچ گیئں جن کا کام آگ بجھانا نہیں ہے۔ وہ آکر کھڑی ہوگئیں۔ میڈیا ہاوس کی ڈی ایس این جیز بھی آکر کھڑی ہوگئیں۔ اس کا پروٹو کول، اس کا پروٹوکول بھی آکر کھڑا ہوگیا۔ جس کی وجہ سے نشاط سینما والی سائیڈ بلاک ہوگئی اور ہزاروں کی تعداد میں وہاں لوگ تھے۔ اس کو پھر ہمارے واڈرن اور ٹریفک پولیس نے کلئیر کرایا۔ جس کے بعد ٹینکرز اندر یعنی سائیٹ پر پہنچ گئے۔

Comments
Loading...