کورنگی صنعتی ایریا کے کاروباری افراد کے فلاحی کاموں کے اس جذبے کو سراہتا ہوں۔ سعید غنی
سندھ حکومت ایسے تمام فلاحی اداروں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو کہ صوبے میں ناخواندگی کے مشن کی تکمیل کے لیئے اس کے شانہ بشانہ کام کر رہیں ہیں۔ سعید غنی
کورنگی صنعتی ایریا کے کاروباری افراد کے فلاحی کاموں کے اس جذبے کو سراہتا ہوں۔ سعید غنی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت ایسے تمام فلاحی اداروں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو کہ صوبے میں ناخواندگی کے مشن کی تکمیل کے لیئے اس کے شانہ بشانہ کام کر رہیں ہیں۔ گرین کریسنٹ ٹرسٹ (جی ایس ٹی) کی کراچی کے پسماندہ علاقوں میں ہزاروں بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم کی فراہمی دراصل سندھ حکومت کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز گرین کریسنٹ ٹرسٹ (جی سی ٹی) کے البدر کیمپس کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے سربراہ و معروف صنعتکار زاہد سعید، سردار یاسین ملک، کاٹی کے صدر جوہر علی قندھاری، نائب صدر زبیر چھایا، دانش خان و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورنگی صنعتی ایریا کے کاروباری افراد کے فلاحی کاموں کے اس جذبے کو سراہتا ہوں، جس کے تحت وہ علاقے کی فیکٹریوں سے منسلک مزدوروں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیئے مسلسل مدد فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے اس البدر کیمپس کے قیام سے جی سی ٹی کے سندھ بھر میں فلاحی اسکولوں کی تعداد 170 ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریف آباد اور نزدیکی مہران ٹاؤن کے پسماندہ علاقوں میں جی سی ٹی کے فلاحی اسکولوں کی تعداد دس ہے جہاں نادار گھرانوں کے کل 2222 بچے زیر تعلیم ہیں جن میں لڑکیوں کی تعداد تقریباً ساٹھ فیصد ہے۔ ان اسکولوں میں خواتین اساتذہ کی تعداد اسی فیصد ہے۔ ان دو علاقوں میں کورنگی صنعتی ایریا میں کام کرنے والے مزدور بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ جس طرح بتایا گیا ہے کہ شریف آباد میں قائم کی جانے والی یہ اسکول کی نئی جدید عمارت صرف پانچ ماہ کے عرصے میں مکمل کی گئی جہاں علاقے کے 350 سے زائد بچے زیر تعلیم ہونگے۔
صوبائی وزیر بلدیات نے اس بات کو سراہا کہ جی سی ٹی پچھلے مسلسل تیس سالوں سے تعلیم کے میدان میں صوبے بھر میں سرگرم عمل ہے۔ انھوں نے اس بات کو سراہا کہ کورنگی صنعتی ایریا کی مختلف صنعتوں سے منسلک صنعتکار علاقے کے مزدوروں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیئے مسلسل تعاون فراہم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کورنگی صنعتی ایریا کے صنعتکاروں کا فلاحی کاموں کا یہ جذبہ ملک کی باقی کاروباری برادری کے لیئے مشعل راہ ہے تاکہ ملک میں ناخواندگی کے خاتمے کے لیئے مخیر حضرات کا زیادہ سے زیادہ تعاون میسر آسکے۔انھوں نے کورنگی ایسوسیشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کی قیادت کی بھی تعریف کی جو کہ اپنے ممبران کو پسماندہ طبقات کی بھلائ کے لیئے فلاحی کاموں کی مسلسل ترغیب فراہم کرتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ جی سی ٹی جیسے مستند فلاحی اداروں کی تعلیم کے میدان میں خدمات سے پچھلے کئی سالوں سے ذاتی طور پر واقف ہیں۔ انھوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ ان مستند فلاحی اداروں کو دل کھول کر عطیات فراہم کریں تاکہ ملک بھرمیں موجود ناخواندہ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جاسکے۔ سعید غنی نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسے فلاحی اداروں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو کہ صوبے میں ناخواندگی کے مشن کی تکمیل کے لیئے اس کے شانہ بشانہ کام کر رہیں ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کاٹی کے صدر جوہر علی قندھاری کا کہنا تھا کہ کورنگی صنعتی ایریا کے صنعتکار جی سی ٹی جیسے مستند فلاحی اداروں کو مسلسل تعاون فراہم کرتے رہیں گے تاکہ ملک سے ناخواندگی کا خاتمہ جلد از جلد ممکن ہوسکے۔
انھوں نے کہا کہ تعلیم کے میدان میں جاری فلاحی مہمات کو تعاون کی فراہمی ملک کے کاروباری افراد کی جانب سے بہترین کار خیر ہے تاکہ پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیئے کام کیا جاسکے۔ کاٹی کے نائب سرپرست اعلیٰ زبیر چھایا نے جی سی ٹی کو سندھ میں پچھلے تیس سالوں سے مسلسل تعلیمی خدمات کی فراہمی پر مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے یقین دھانی کرائی کہ کاٹی ہمیشہ غیر سرکاری اداروں اور حکومت کی ناخواندگی کے خاتمے کے لیئے کی جانے والی کاوشوں میں بھرپور مدد فراہم کرتی رہے گی۔ جی سی ٹی کے سربراہ زاہد سعید نے تقریب کے حاضرین کو بتایا کہ ان کے فلاحی ادارے کے ایک مستقل ڈونر نے اپنا نام مکمل صیغہ راز میں رکھتے ہوئے شریف آباد کے نئے اسکول کی تعمیر کے تمام اخراجات ادا کیئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہی ڈونر جو کہ فلاحی کاموں کے سلسلے میں اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا جی سی ٹی کے اسکولوں میں زیر تعلیم پسماندہ علاقوں کے پانچ ہزار بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ انھوں نے جی سی ٹی کے سرپرست کاروباری افراد اور بہت سے مخیر حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ جن کے مسلسل تعاون کی بدولت جی سی ٹی کے سندھ بھر کے اسکولوں میں نادار گھرانوں کے 32199 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جی سی ٹی تعلیم کے میدان میں کام کرنے والی دوسری فلاحی تنظیموں اور متعلقہ حکومتی اداروں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیئے ہمیشہ تیار ہے تاکہ ملک میں موجود ناخواندہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی جلد از جلد ممکن ہو۔ان کا کہنا تھا کہ جی سی ٹی ملکی کاروباری برادری بلخصوص کورنگی صنعتی ایریا کے صنعتکاروں کے مسلسل تعاون کی بدولت پر امید ہے کہ وہ اپنا ویژن 2025 حاصل کرلے گی جس کے تحت سندھ میں اگلے سال کے آخر تک ادارے کے فلاحی اسکولوں کی تعداد 250 سے زائد کردی جاۓ گی جہاں کل ایک لاکھ ناخواندہ بچوں کو داخلہ فراہم کیا جائے گا۔