کراچی میں گیس بحران ناقابلِ برداشت، سوئی گیس کا ادارہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ علی خورشیدی
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد سے جاری بیان میں سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف علی خورشیدی نے کراچی میں شدید سردی کے دوران گیس کی بدترین قلت پر وفاقی حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کی کارکردگی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولت سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی اور ادارے کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اپنے بیان میں علی خورشیدی نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے کراچی کے مختلف علاقوں میں گیس مکمل طور پر بند یا انتہائی کم پریشر پر فراہم کی جا رہی ہے، جس کے باعث عوام، خصوصاً خواتین، بزرگوں، بچوں اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سرد موسم میں گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور شہری مہنگے ایل پی جی سلنڈرز استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حیران کن امر یہ ہے کہ ایک طرف گیس کی فراہمی معطل ہے جبکہ دوسری جانب شہریوں کو ہزاروں روپے کے بھاری بل بھیجے جا رہے ہیں۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں عوام کو سہولت دیے بغیر بل وصول کیے جا رہے ہیں؟
قائدِ حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی ناقص کارکردگی اور پرانا انفراسٹرکچر ہر سال سردیوں میں عوام کو یرغمال بنا لیتا ہے، مگر نہ وفاقی حکومت اصلاحات کرتی ہے اور نہ ادارہ اپنا قبلہ درست کرتا ہے.
علی خورشیدی نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر توانائی سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں گیس بحران کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہریوں کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔