ایک عرصے سے کراچی کے عوام مسائل کا شکار ہیں۔ سراج الحق
مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی انتخابات کروائے گئے تاکہ گلی محلوں کے مسائل حل کروائے جائیں۔
ایک عرصے سے کراچی کے عوام مسائل کا شکار ہیں۔ سراج الحق
کراچی : امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا ادارہ نور حق میں کراچی آمد کے موقع پر ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال، اہل کراچی سمیت ملک بھر کے عوام کی مشکلات و مسائل اور جماعت اسلامی کی جاری احتجاجی تحریک کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، نائب امراء کراچی اور ٹاون چئیرمینز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی شہ رگ ہے۔ ایک عرصے سے کراچی کے عوام مسائل کا شکار ہیں۔ مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی انتخابات کروائے گئے تاکہ گلی محلوں کے مسائل حل کروائے جائیں۔ سندھ حکومت کراچی میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جب تک پیپلز پارٹی کی حکومت رہی انہوں نے منتخب نمائندوں کو اختیارات نہیں دیے۔ جماعت اسلامی کے منتخب ٹاون و یوسی چئیرمینز کو اختیارات نہیں دیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نگراں حکومت نے بھی اختیارات منتقل نہیں کیے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹاون و یوسی چئیرمینز کو مالی و انتظامات کے اختیارات منتقل کیے جائیں۔ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے بغیر کسی اختیارات کے کام کررہے ہیں۔ نگراں وزیر اعلی باقر آئین اور قانون کو بہتر جانتے ہیں۔ نگراں وزیر اعلی فوری اختیارات منتقل کریں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں مجموعی طور پر بدامنی یے۔ صرف کراچی میں گزشتہ 9 ماہ میں سو سے زائد شہریوں کو قتل کردیا گیا۔ دولت اور سرمائے کی بنیاد پر اسمبلیوں میں پہنچ کر عوامی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد پر کام کرتے ہیں۔ حکمرانوں کی نااہلی اور ذاتی مفادات کی وجہ سے مزید 90 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ مفادات کی سیاست کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ حال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق افغانستان نے 9 فیصد کرنسی میں اضافہ ہوا ہے۔ بنیادی مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ بد انتظامی، ذاتی مفادات اور کرپشن ہے۔ کراچی کا انفراسٹرکچر تباہ حال ہے۔ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پینے کا صاف پانی اور سیوریج کا ہے۔ بجلی کے فی یونٹ میں 32 روپے کا اضافہ کیا گیا۔ شہر کو 35000 بسوں کی ضرورت ہے اور حال یہ ہے کہ اس وقت صرف 250 بسیں ہیں۔ جماعت اسلامی نے مہنگائی کے خلاف تحریک شروع کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سولر سسٹم ، پن چھکی اور پانی کے ذریعے سے بجلی بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان کے جن حکمرانوں نے آئی پی پیز سے معاہدہ کیا انہوں نے عوام کے ساتھ ظلم کیا۔ نگراں وزیر اعظم نے حلف اٹھاتے ہی بجلی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا۔ اطلاعات یہی کے کہ بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی بات ہورہی ہے۔ آئی پی پیز سے معاہدے عوام کی ضرورت نہیں مافیا کی ضرورت ہے۔ آئی پی پیز تاریخ کا ایسا بدترین معاہدہ ہے کہ اگر بجلی کی ضرورت 2 ارب کی ہے تو وہ معاہدے کے مطابق 3 ارب ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں کو ختم کیا جائے ، جن لوگوں نے معاہدے کیے ہیں ان پر غداری کا کیس چلایا جائے۔ ماہرین گواہی دیتے ہیں کہ 5.94روپے فی یونٹ میں بجلی بن سکتی ہے۔ حکمران اور مافیاز نہیں چاہتے کہ سستی بجلی بنائی جائے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے۔ جن لوگوں نے آئی پی پیز کے معاہدے کیے ہیں ان کے خلاف فارنزک آڈٹ کیا جائے۔ 200 ارب روپے سے زیادہ لائن لاسز کا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو مفت بجلی فراہم کرکے اس کا سارا بوجھ بھی عوام پر ڈالا جارہا ہے۔ جماعت اسلامی نے بڑھتی ہوئی ظلم و زیادتی کے خلاف 6 اکتوبر کو وزیر اعلی ہاوس پر دھرنا دے گی۔ نگراں حکومت کا کام ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت فوری صاف اور شفاف انتخابات کروائے۔ جماعت اسلامی 25 کروڑ عوام کے مفاد کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ عوام کلین اور گرین اور کرپشن سے پاک پاکستان کے لیے جماعت اسلامی ک ساتھ دیں ۔