نیو کراچی ٹاون کی تباہ حال سڑکوں کو تعمیر و مرمت کر کے بحال کیا جارہا ہے۔محمد یوسف
عوامی سہولیات کی فراہمی میں نیو کراچی ٹاؤن صفِ اول میں شامل۔
عوامی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے مین شاہراہوں کی مرمت و استرکاری جاری ہے۔محمد یوسف
کراچی: چیئرمین نیو کراچی ٹاون محمد یوسف کا وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر کے ہمراہ پاور ہاؤس چورنگی نارتھ کراچی کے اطراف جاری سڑک کی مرمت اوراستر کاری کے کام کا معائنہ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر بی اینڈ آر فیصل صغیر،ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ انکروچمنٹ عبیدالرحمن و دیگر بلدیاتی افسران بھی موجود تھے۔
اس موقع پر چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے کہا کہ اہلیان نیو کراچی ٹاؤن کو بلدیاتی سہولتوں کی فراہمی کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔ عوامی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے مین شاہراہوں کی مرمت و استرکاری کا کام زور و شور سے کیا جارہا ہے ا س موقع پر چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے متعلقہ افسران وعملے کوہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سڑک کی تعمیرمیں استعمال ہونے والے میٹریل کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ مظبوط اور پائیدار سڑک تعمیرکی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ پاور ہاؤس چورنگی کے اطراف ورلڈ بینک کے تعاون سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے سیوریج لائن ڈال کر سڑک کو ہموار نہیں کیا اورایسے ہی چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے یہ شاہراہ مزیدٹوٹ پھوٹ کا شکارہوگئی تھی اور سڑک پر بڑے بڑے گڑھے پڑھ گئے تھے جس سے ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا ہورہا تھا یہ مرکزی شاہراہ ہے جو سرجانی، نارتھ کراچی اور نیو کراچی کے راستوں کو ملاتی ہے۔
جس کی وجہ سے یہاں ٹریفک کا بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی نا اہلی اور عدم توجہ سے عوام بے حد پریشان تھے کیونکہ یہاں اکثر اوقات ٹریفک جام رہتا تھا جس کی وجہ سے حادثات بھی رونما ہورہے تھے اس عوامی پریشانی کا کسی بھی متعلقہ ادارے پر اثر نہیں ہورہا تھا۔لہذا نیو کراچی ٹاؤن کی انتظامیہ نے عوام کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اس سڑک کی مرمت اور استر کاری کا بیڑہ اُٹھایا اور نیو کراچی ٹاؤن کے فنڈ سے سڑک کی مرمت و تعمیر کا کام شروع کرایا ہے جو آج الحمداللہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نیو کراچی ٹاؤن میں جہاں کہیں بھی ہم ترقیاتی کام کا ارادہ کرتے ہیں ہمیں وہاں سب سے پہلے سیوریج یا پینے کے پانی کی لائن کی لیکج کے حوالے سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑھتا ہے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ایک نا اہل ادارہ بن گیا ہے ان کو جب بھی کوئی کام بتاؤ سب سے پہلے ان کا سوال ہوتا ہے کہ پیسہ کون لگائے گا جبکہ اس ادارے کے پاس عوامی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اربوں روپے کا فنڈ ہوتا ہے جو کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپورشن عوامی سہولیات کی فراہمی کے لئے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کررہا ہے یہ ادارہ کراچی کے لئے عذاب بنا ہوا ہے اور قومی خزانے پرایک بوجھ ہے۔