خوش اخلاقی ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے، مریضوں اور عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ شبیر قائم خانی
ایم کیو ایم کے کارکنان تحریک کا اصل اثاثہ اور انسانیت کے سفیر ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار
میڈیکل ایڈ کمیٹی کے یومِ تاسیس کی مناسبت سے خصوصی کیلنڈر اور پوسٹر 2026ء کا اجراء
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں میڈیکل ایڈ کمیٹی (ایم اے سی) کے یومِ تاسیس اور نئے سال کے کیلنڈر و پوسٹر کے اجراء کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیکل ایڈ کمیٹی کے تمام ذمہ داران اور کارکنان کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ شعبہ تحریک کا وہ مضبوط بازو ہے جس نے ہمیشہ مشکل وقت میں بلا رنگ و نسل عوام کا ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاہے ہسپتالوں میں بلڈ کیمپس ہوں یا کسی ناگہانی آفت میں امدادی سرگرمیاں، کارکنوں کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے زور دیا کہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھتے ہوئے خدمتِ خلق کے جذبے کو ہر صورت برقرار رکھنا ہے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں عوام کے دلوں تک لے جاتا ہے۔
اس موقع پر سابق صوبائی وزیر اور مرکزی رہنما شبیر قائم خانی نے کارکنان سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کا ہر کارکن پارٹی کا سفیر اور “ڈسپلے آئٹم” ہے، لہٰذا اپنے کردار اور اخلاق کو بلند رکھیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے پرہیز کریں اور اگر کوئی گالی بھی دے تو اسے دعا دیں، کیونکہ خوش اخلاقی بڑے سے بڑے دشمن کو بھی زیر کر دیتی ہے جبکہ بد اخلاقی دوست کو بھی دشمن بنا دیتی ہے۔
شبیر قائم خانی نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم میڈیکل ایڈ کمیٹی کی ایک تاریخ ہے، چاہے وہ کشمیر کا زلزلہ ہو یا سیلاب، ہمارے کارکنوں نے منفی درجہ حرارت اور کٹھن حالات میں اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر انسانیت کی خدمت کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ انتہائی نیک نیتی اور ہمدردی سے پیش آئیں تاکہ وہ تحریک کو دعائیں دیں۔
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر فاروق ستار اور دیگر رہنماؤں نے میڈیکل ایڈ کمیٹی کے خصوصی کیلنڈر اور پوسٹر کا باقاعدہ اجراء کیا۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نگہت شکیل، مرکزی رہنما زاہد منصور، سینٹرل آرگنائزنگ اینڈ کوارڈینیشن کمیٹی کے اراکین ارشاد ظفیر، مسعود محمود، کامران فاروقی، مرکزی ایڈہاک میڈیکل ایڈ کمیٹی کے ذمہ داران سمیت مختلف ہسپتالوں کے کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔