مئیر کے انتخاب میں جعل سازی کی گئی,کراچی کے عوام کو ان کے مینڈیٹ سے محروم کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا ادارہ نور حق میں میئر کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی بدترین دھاندلی،منتخب نمائندوں کو اغواء اور لاپتا کرنےالیکشن کمیشن کی مجرمانہ غفلت اور جماعت اسلامی کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب
مئیر کے انتخاب میں جعل سازی کی گئی,کراچی کے عوام کو ان کے مینڈیٹ سے محروم کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا ادارہ نور حق میں میئر کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی بدترین دھاندلی،منتخب نمائندوں کو اغواء اور لاپتا کرنےالیکشن کمیشن کی مجرمانہ غفلت اور جماعت اسلامی کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب۔
انہوں نے کہا کہ مئیر کے انتخاب میں جعل سازی کی گئی,کراچی کے عوام کو ان کے مینڈیٹ سے محروم کیا گیا,جمہوری طریقے سے جیتنے والے کو مبارکباد دی جاتی یے,جو عمل غیر جمہوری،غیر آئینی طریقے سے منتخب ہوا ہو اسے مبارکباد نہیں مزاحمت کی جاتی ہے,15 جنوری سے پہلے چار دفعہ بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہوا اور ہر دفعہ ملتوی کردیا گیا,بلاآخر 15 جنوری کو انتخابات ہوگئے لیکن پھر ہمیں فارم 11 اور 12 نہیں دیے گئے۔
جماعت اسلامی نے من پسند حلقہ بندیوں کے باوجود 15 جنوری کو 100 سے نشستوں پر کامیاب ہوئی, الیکشن کمیشن،آراوز اور ڈی آراوز نے پیپلز پارٹی کی اے ٹیم کا کردار ادا کیا اور نتائج تبدیل کیے,الیکشن کمیشن نے اورنگی ٹاؤن کی 6 یوسیز کا ازخود نوٹس لیا لیکن بعد میں ری کاونٹنگ کے نام پر پیپلز پارٹی کو دے دی گئی,ای سی پی اور پی پی پی کے گٹھ جوڑ سے کراچی کے مینڈیٹ پر قبضہ کیا گیا, تمام تر جعل سازی اور دھاندلی کے باوجود جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے 192 اور پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادیوں کے 173 نمبرز ہوئے,پیپلز پارٹی مئیر کے انتخاب سے پہلے ہی یہ بات کررہی تھی کہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ نہیں آئیں گے،ہم پی ٹی آئی کے لوگوں کو اغواء کرنے اور دھمکیاں دینے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو بتاتے رہے۔
جماعت اسلامی کے نمبرز پورے ہوچکے تھے اب صرف فیصلہ کرنا تھا،پی ٹی آئی کے ایک ہی فرد کے مختلف بیانات آتے رہے،ہم نے بار بار الیکشن کمیشن کو خط لکھا اور کہا کہ آپ ان تمام تر صورتحال کا جائزہ لیں،پی ٹی آئی کے 31 لوگوں کو کس نے اور کیوں نہیں آنے دیا اس پر تحقیقات کی جائے،پی ٹی آئی کے اغواء لوگوں کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے،ہم کسی بھی فرد پر الزام نہیں لگارہے کہ اسے خریدا گیا ہو۔ ہم پیپلز پارٹی کی سرشت کو جانتے ہیں،9 مئی کے واقعے کو بنیاد بنا کر لوگوں کو اغواء کیا گیا۔
پیپلز پارٹی نے پولیس کے محکمہ اور اسپیشل فورسز کا استعمال کرکے منتخب چئیرمنوں کو غائب کیا گیا،مئیر کے انتخاب کے دن بھی ہم نے احتجاج کیا کہ ہمارے افراد پورے کرو اس کے بعد گنتی پوری کرو، لاڈلے کو نوازنے کے لیے غیر جمہوری طریقے سے مئیر منتخب کیا گیا،نومنتخب مئیر ایک سال ایڈمنسٹریٹر بھی رہے لیکن انہوں نے اس وقت کچھ نہیں کیا تو اب کیا کریں گے،ای سی پی اور پی پی پی بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کرتے رہے،جیسے ہی مئیر کے انتخاب کا سارا عمل مکمل کرلیا گیا تو مئیر کے انتخاب میں جلدی کی گئی،ہم نے مئیر کے انتخاب کے عمل کو آگے بڑھانے کا اس لیے کہا تھا کہ سندھ حکومت 9 مئی کے واقعات کو بنیاد بنا کر گرفتار کرتی رہی۔
ای سی پی اور پی پی پی کے گٹھ جوڑ نے طے کرلیا تھا کہ 8 مئی کو ایڈمنسٹریٹر بننے کے بعد کی مدت پوری ہوگئی تھی،جماعت اسلامی پاکستان اور پورا پاکستان کراچی کے عوام کی پشت پر ہیں،ہمیں گلے لگانے کا شوق نہیں ۔ ہم عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں،پورا پاکستان کراچی کے عوام کی پشت پر کھڑا ہوگیا ہے،امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ 23 جون کواسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے آفس باہر بہت بڑا احتجاج ہوگا،ہم پوچھیں گے کہ آخر 192 کوہرا کر 173 کو کیسے جتوایا گیا،ہم کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑیں گے،الیکشن کمیشن کراچی میں انتخابات کروانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔
الیکشن کمیشن مئیر کا جعلی انتخاب کرواتا ہو تو قومی انتخابات کیسے کروائے گا،الیکشن کمیشن بتائے کہ قومی انتخابات میں پارٹیوں سے مک مکا کرے گا اور پہلے سے فیصلہ لکھ دیا جائے گا،جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز ہیں ہم ترقیاتی کام کروائیں گے،ہمیں توقع ہے کہ 22 جون کی سماعت میں مئیر کے انتخاب کے عمل کو کالعدم قرار دیا جائے گا،جب بھی ہم وڈیرہ شاہی ہر بات کریں گے تو پیپلز پارٹی سندھیوں کو مہاجر کے خلاف کردیتے ہیں،ہم جب وڈیرہ شاہی کے خلاف بات کرتے ہیں تو اس مائنڈ سیٹ کی بات کرتے ہیں جو سندھیوں اور مہاجروں کو مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں،گوٹھکی کی ایک ویڈیو جاری ہوئی ہے جس میں ایک وڈیرہ لڑکے کو چارپائی پر باندھ کر تشدد کیا جارہاہے۔
جماعت اسلامی ہر مظلوم کے ساتھ ہیں ، ہم سب کی خدمت کرتے ہیں،بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ ہمیں فلڈ فنڈز کے پیسے دیے جائیں،بلاول بھٹو صاحب پہلے جو فنڈز آئے تھے وہ کہاں خرچ کیے گئے،گزشتہ فنڈز سے کتنی مچھر دانیاں آئیں اور کہاں خرچ کیے گئے پہلے ان کا تو حساب دیا جائے،ہم نے کہا تھا کہ کراچی کو وڈیروں کی اوطاق نہیں بننے دیں گے، اگر کراچی میں بھی کوئی ڈرائنگ روم کی سیاست کرے گا تو ہم اسے وڈیروں کی اوطاق نہیں بننے دیں گے۔
ہم نے محاورے کی صورت میں کہا تھا کہ کراچی کو وڈیروں کی اوطاق نہیں بننے دیں گے ہمارا مقصد ڈرائنگ روم کی سیاست تھا،اگر کسی کو میرے اس جملے سے کسی کو تکلیف پہنچی تو میں معزرت چاہتا ہوں،یہ کہتے ہیں کہ اگر مئیر دوسری پارٹی کا ہوگا تو وسائل نہیں ملیں گے،یہ کیسی جمہوریت ہے کہ پیپلز پارٹی کا مئیر نہیں ہوگاتو وسائل نہیں ملیں گے،کراچی کے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے کسی کی ذاتی جاگیردار نہیں ہے، ہم وسائل چھین کر لیں گے۔