پاکستان اُس وقت تک اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا جب تک پاکستان میں رہنے والے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہونگے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
پاکستان کا پرچم بتاتا ہے کہ اقلیتی برادری کے بغیر پاکستان مکمل ہی نہیں ہوتا،ڈاکٹر فاروق ستار
پاکستان اُس وقت تک اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا جب تک پاکستان میں رہنے والے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہونگے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے تحت جاری عشرہ آزادی کے سلسلے میں پاکستان میں اقلیتی برادری کے قومی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں جتنی بھی مذہبی لسانی اکائیاں موجود ہیں انہیں تسلیم کرنے اور انکی تعظیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو اپنی اپنی بنیادی پہچان پر ناز کرنا چاہئے اور دوسرے کی پہچان کا احترام کرنا چاہئے اور اُس کیلئے ایم کیو ایم کو جس طرح کی قانونی آئینی جدوجہد کرنا پڑی ہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا وعدہ اور ارادہ تھا کہ ہم نفرت کو پاکستان میں کسی صورت جگہ نہیں دیں گے مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مذہبی اقلیت کو کیا انصاف، حقوق ملے ہیں؟ ایک بہتر پاکستان اور پرامن کراچی کیلئے ہمارے دروازے کھُلے ہیں آئیے ساتھ بیٹھیں جو قانون سازی کرنا ہے، آئین میں جو ترمیم کروانا ہے ساتھ بیٹھ کر کرتے ہیں ہم اس معاشرے سے تنگ نظری اور تنگ دلی کو ختم کرنے کیلئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان اور خاص طور پر کراچی کے ہر حلقے میں غیر مسلم برادری رہتی ہے ہم سب چاہیں تو مل کر کراچی کی شکل بہتر کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جب مذہبی اقلیتی برادری کے حقوق اور مذہبی انتہاء پسندی کے خلاف کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تھا تب صرف ایم کیو ایم کہتی تھی آئیے ہمارا ساتھ دیجئے، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اب آپ بھی ثابت کیجئے کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم پاکستان میں ارادی اور اختیاری پاکستانی ہیں اسی طرح آپ بھی ارادی اور اختیاری پاکستانی ہیں، ہمارے پاس یہ چُننے کا اختیار تھا کہ ہمیں یہاں رہنا ہے یا وہاں، یہ نفرت قائد اعظم کے پاکستان میں نہیں تھی شاید بھٹو کے پاکستان نے اُسے پیدا کیا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان اُس وقت تک اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا جب تک پاکستان میں رہنے والے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہونگے۔
تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کا پرچم بتاتا ہے کہ اقلیتی برادری کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہوتا، قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر ہمارے لئے مشعل راہ ہے کہ کس طرح مسلم اور تمام اقلیتی برداری کو مل کر پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے جدوجہد کرنا ہے، اگر ہم قائد کی 11 اگست کی تقریر پر عمل نہیں کریں گے پاکستان کے معاشی ، سیاسی اور معاشرتی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے کہا کہ میں آج کی اس شاندار تقریب کے انعقاد پر ایم کیو ایم پاکستان کے شعبہ اقلیتی امور اور خاص طور پر رکن سندھ اسمبلی سنجے پیروانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ہم آنے والے عام انتخابات کے منشور میں اقلیتی برادری کیلئے ایک بڑا حصہ رکھیں گے اور اندرون سندھ ہونے والی جبری شادیوں اور جبری تبدیلئ مذہب کو ختم کرنے کیلئے قانون سازی کریں گے اور اقلیتی برادری کو آہنی و قانونی تحفظ فراہم کریں گے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر کو آئین کا حصہ بنادیا جائے اور اُس پر عملدرآمد ہوجائے تو پاکستان میں غیر مسلموں کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ آخر میں سابق وفاقی وزیر آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام سید امین الحق نے کہا ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ میں خواتین کی مخصوص نشست پر سب سے پہلا نام اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی کارکن منگلا شرما کا دیکر ایوان میں بھیجا۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ہندو کرسچن پارسی سمیت تمام اقلیتی برادریوں کا برابر کا حصہ ہے، لہٰذا ایم کیو ایم پاکستان ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی اقلیتی برادری کے ساتھ کھڑی ہے اور ہندو میرج بل کی طرح بہت جلد کرسچن میرج بل بھی منظور کرواکر ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔
کراچی میں 42 بلین کی لاگت سے آئی ٹی پارک بنایا جارہا ہے جس میں بلا امتیاز رنگ و نسل میرٹ کی بنیاد پر نوجوانوں کو مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ 11 اگست کو موان پک ہوٹل کراچی میں ہونے والی اس تقریب میں رومانہ بشیر، سابن مشل، روی دوانی، تُشنا پٹیل، مہیش وسوانی اور غیر مسلم برادری سے تعلق رکھنے والی دیگر معزز شخصیات نے خطاب کیا۔